Showing posts with label Leave Comments after reading.. Show all posts
Showing posts with label Leave Comments after reading.. Show all posts

Friday, 19 October 2012


Mulal's Diary Part-3
مُلالہ یوسف زئی کی ڈائری (تیسری قسط)
سوات میں طالبان نے پندرہ جنوری سے لڑکیوں کے سکول جانے پر پابندی لگادی ہے۔ اس صورتحال میں طالبات پر کیا گزر رہی ہے، بی بی سی ارود ڈاٹ کام ساتویں جماعت کی ایک متاثرہ طالبہ کی کہانی ایک ڈائری کی صورت میں شائع کررہی ہے۔ سکیورٹی کے خدشے کے پیش نظر وہ ’گل مکئی‘ کے فرضی نام سے اپنی ڈائری لکھیں گی۔ اس سلسلے کی تیسری کڑی:
                  اتوار:اٹھارہ جنوری ’طالبان نہیں، سکیورٹی فورسز بھی ذمہ دار
آج ابو نے بتایا کہ حکومت ہمارے سکولوں کی حفاظت کرے گی۔ وزیراعظم نے بھی ہمارے بارے میں بات کی ہے۔میں بہت خوش ہوئی۔لیکن اس سے تو ہمارا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
یہاں ہم سوات میں روزانہ سنتے ہیں کہ فلاں جگہ پر اتنے فوجی مرگئے ہیں، اُدھر اتنے اغواء ہوگئے۔ پولیس والے تو آج کل شہر میں نظر آہی نہیں رہے ہیں۔ ہمارے ماں باپ بھی بہت ڈرے ہوئے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ جب تک طالبان خود ہی ایف ایم چینل پر اپنا اعلان واپس نہیں لیتے وہ ہمیں سکول نہیں بھیجیں گے۔
خود فوج کی وجہ سے بھی ہماری تعلیم متاثر ہوئی ہے۔آج ہمارے محلے کا ایک لڑکا سکول گیا تھا تو وہاں پر استاد نےاس سے کہا کہ تم واپس گھر چلے جاؤ کیونکہ کرفیو لگنے والا ہے۔وہ جب واپس آیا تو پتہ چلا کہ کرفیو نہیں لگ رہا بلکہ اس راستے سے فوجی قافلے نے گزرنا تھا اس لیے سکول کی چھٹی کردی گئی۔
پیر:انیس جنوری’سکول کی بلڈنگ کو کیوں سزا دی جا رہی ہے

آج پھر پانچ سکولوں کو بموں سے اڑا دیا گیا۔ ان میں سے ایک سکول تو میرے گھر کے قریب ہے۔ میں حیران ہوں کہ یہ سکول تو بند تھے پھر کیوں اِنہیں آگ لگائی گئی۔ طالبان کی ڈیڈ لائن کے بعد تو کسی نے بھی سکول میں قدم نہیں رکھا تھا۔ آخر یہ لوگ بلڈنگ کو کیوں سزا دے رہے ہیں۔
آج میں اپنی ایک سہیلی کے گھر گئی تھی اس نے کہا کہ چند دن پہلے مولانا شاہ دوران کے چچا کو کسی نے قتل کر دیا تھا شاید اسی لیے طالبان نے غصے میں آ کر ان سکولوں کو جلادیا ہے۔وہ کہہ رہی تھی کہ طالبان کو کسی نے تکلیف پہنچائی ہے جب انہیں تکلیف پہنچتی ہے تو وہ پھر اس طرح کا غصہ ہمارے سکولوں پر نکالتے ہیں۔
فوجی بھی کچھ نہیں کررہے ہیں۔وہ پہاڑوں میں اپنے مورچوں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔بکریاں ذبح کرتے ہیں اور مزے لے کر کھاتے ہیں۔
جمعرات: بائیس جنوری ’جہاں فوجی وہاں طالب، جہاں طالب وہاں فوجی نہیں

سکول کے بند ہونے کے بعد گھر پر بیٹھ کر بہت بور ہوگئی ہوں۔میری بعض سہیلیاں سوات سے چلی گئی ہیں۔سوات میں آجکل حالات پھر بہت خراب ہیں۔ڈر کے مارے گھر سے باہرنہیں نکل سکتی۔رات کو بھی مولانا شاہ دوران نے ایف ایم چینل پر اپنی تقریر میں یہ دھمکی دی کہ لڑکیاں گھر سے نہ نکلیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ فوج جس سکول کو مورچے کے طور پر استعمال کرے گی وہ اسے دھماکے سے اڑادیں گے۔
ابو نے آج گھر میں ہمیں بتایا کہ حاجی بابا میں لڑکیوں اور لڑکوں کے ہائی سکولوں میں بھی فوجی آگئے ہیں۔اللہ خیرکرے۔مولانا شاہ دوران نے اپنی تقریر میں یہ بھی کہا کہ کل تین چوروں کو کوڑے لگائے جائیں گے جو بھی تماشہ کرنا چاہتاہے وہ پہنچ جائے۔ میں حیران ہوں کہ ہمارے ساتھ اتنا ظلم ہواہے پھر لوگ کیوں تماشہ کرنے جاتے ہیں۔
فوج بھی کیوں طالبان کو ایسا کرنے سے نہیں روکتی۔ میں نے دیکھا ہے کہ جہاں فوج ہوگی وہاں طالب ہوگا مگر جہاں طالب ہوگا وہاں فوجی نہیں جائے گا۔ (جاری ہے)

Thursday, 18 October 2012

Mulala's Diary Part-2
شاید دوبارہ سکول نہ آسکوں (دوسری قسط)
صوبہ سرحد کے شورش زدہ ضلع سوات میں فوجی کارروائی جاری ہے۔ اگر ایک طرف سکیورٹی فورسز اور مسلح طالبان کی جھڑپوں میں درجنوں عام شہریوں کے ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری طرف مسلح طالبان نے ایک سو تیس سے زائد سکولوں کو تباہ کرنے کی بھی ذمہ داری قبول کرلی ہے جن میں سے زیادہ تر لڑکیوں کے ہیں۔
اب طالبان نے پندرہ جنوری سے لڑکیوں کے سکول جانے پر بھی پابندی لگادی ہے۔ اس صورتحال میں طالبات پر کیا گزر رہی ہے، بی بی سی ارود ڈاٹ کام ساتویں جماعت کی ایک متاثرہ طالبہ کی کہانی ایک ڈائری کی صورت میں شائع کررہی ہے۔ سکیورٹی کے خدشے کے پیش نظر وہ ’گل مکئی‘ کے فرضی نام سے اپنی ڈائری لکھیں گی۔ اس سلسلے کی دوسری کڑی:

بدھ، سات جنوری: تمہیں سکول جاتے وقت خوف نہیں آتا؟

میں محرم الحرام کی چھٹیاں گزارنےاپنی فیملی کے ساتھ ضلع بونیر آئی ہوں۔ بونیر مجھےبہت پسند آیا، یہاں چاروں طرف پہاڑ اورسرسبز وادیاں ہیں۔ میرا سوات بھی تو بہت خوبصورت ہے لیکن وہاں امن جونہیں، یہاں امن بھی ہے اور سکون بھی، نہ فائرنگ کی آواز اور نہ ہی کوئی خوف۔ ہم سب گھر والے یہاں بہت خوش ہیں۔
آج پیر بابا کے مزار پر گئے تھے، وہاں لوگوں کا بہت زیادہ رش تھا۔ وہ منتیں مانگنے آئے تھے اور ہم تفریح کے لیے۔ یہاں پر چوڑیاں، جھمکے، لاکٹ وغیرہ بکتے ہیں۔ میں نے شاپنگ کرنے کا سوچا تھا مگر کچھ بھی پسند نہیں آیا۔ البتہ امی نے جھمکے اور چوڑیاں خرید لیے۔
میں نے ایک لڑکی کو سکول جاتے ہوئے دیکھا۔ وہ چھٹی کلاس میں پڑھتی تھی۔ میں نے اسے روکا اور پوچھا تمہیں سکول جاتے ہوئے خوف محسوس نہیں ہو رہا ہے۔ اس نے پوچھا کس سے، میں نے کہا طالبان سے، اس نے جواب دیا: ’یہاں طالبان نہیں ہیں۔

جمعہ، نو جنوری: مولانا شاہ دوران چھٹی پر چلے گئے

آج میں نے سکول میں اپنی سہیلیوں کو بونیر کے سفر کے بارے میں بتایا۔انہوں نے کہا کہ تمہارے یہ قصے سنتے سنتے ہمارے کان پک جائیں گے۔ ہم نے ایف ایم چینل پر تقریر کرنے والے طالبان رہنماء مولانا شاہ دوران کی موت سے متعلق اڑائی گئی خبر پر خوب بحث کی۔انہوں نے ہی لڑکیوں کے سکول جانے پر پابندی کا اعلان کیا تھا۔
کچھ لڑکیوں کا کہنا تھا کہ وہ مرگئے ہیں۔کچھ نے کہا کہ، نہیں زندہ ہیں۔انہوں نے چونکہ گزشتہ رات تقریر نہیں کی تھی اسی لیے ان کی موت کی افواہ پھیلائی گئی تھی۔ایک لڑکی نے کہا کہ وہ چھٹی پر چلے گئے ہیں۔
جمعہ کو ہمارے ٹیوشن کی چھٹی ہوتی ہے اس لیے ہم آج دیرتک کھیلتے رہے۔ ابھی ابھی جونہی میں ٹی وی دیکھنے بیٹھ گئی تو خبر آئی کہ لاہور میں دھماکے ہوگئے ہیں۔ میں نے کہا یا اللہ، دنیا میں سب سے زیادہ دھماکے پاکستان میں ہی کیوں ہوتے ہیں۔

بدھ، چودہ جنوری: شاید دوبارہ سکول نہ آسکوں؟

آج میں سکول جاتے وقت بہت خفا تھی کیونکہ کل سے سردیوں کی چھٹیاں شروع ہو رہی ہیں۔ ہیڈ مسٹرس نےچھٹیوں کا اعلان تو کیا تو مگر مقررہ تاریخ نہیں بتائی۔ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے، پہلے ہمیں ہمیشہ چھٹیوں کے ختم ہونے کی مقررہ تاریخ بتائی جاتی تھی۔اس کی وجہ تو انہوں نے نہیں بتائی لیکن میرا خیال ہے کہ طالبان کی جانب سے پندرہ جنوری کے بعد لڑکیوں کے سکول جانے پر پابندی کے سبب ایسا کیا گیا ہے۔
اس بار لڑکیاں بھی چھٹیوں کے بارے میں پہلے کی طرح زیادہ خوش دکھائی نہیں دے رہی تھیں کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اگر طالبان نے اپنے اعلان پر عمل کیا تو وہ شاید سکول دوبارہ نہ آسکیں۔
کچھ لڑکیاں پرامید تھیں کہ انشاء اللہ فروری میں سکول دوبارہ کھل جائے گا لیکن بعض ایسی بھی تھیں جنہوں نے بتایا کہ ان کے تعلیم جاری رکھنے کی خاطر ان کے ماں باپ نےسوات سے نقل مکانی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
آج چونکہ سکول کا آخری دن تھا اسی لیے ہم سہیلیوں نےسکول کے گراؤنڈ میں دیر تک کھیلنے کا فیصلہ کیا۔ مجھے بھی یہ امید ہے کہ انشاء اللہ ہمارا سکول بند نہیں ہوگا لیکن پھر بھی نکلتے وقت میں نے سکول کی عمارت پر ایسی نظر ڈالی جیسے دوبارہ یہاں نہیں آسکوں گی۔

جمعرات، پندرہ جنوری: توپوں کی گھن گرج سے بھرپور رات

پوری رات توپوں کی شدید گھن گرج تھی جس کی وجہ سے میں تین مرتبہ جاگ اٹھی۔آج ہی سے سکول کی چھٹیاں بھی شروع ہوگئی ہیں اسی لیے میں آرام سے دس بجے اٹھی۔ بعد میں میری ایک کلاس فیلو آئی جس نے میرے ساتھ ہوم ورک ڈسکس کیا۔
آج پندرہ جنوری تھی یعنی طالبان کی طرف سے لڑکیوں کے سکول نہ جانے کی دھمکی کی آخری تاریخ مگر میری کلاس فیلو کچھ اس اعتماد سے ہوم ورک کر رہی ہےجیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔
آج میں نے مقامی اخبار میں بی بی سی پر شائع ہونے والی اپنی ڈائری بھی پڑھی۔ میری ماں کو میرا فرضی نام’گل مکئی‘ بہت پسند آیا اورابو سے کہنے لگیں کہ میرا نام بدل کر گل مکئی کیوں نہیں رکھ لیتے۔ مجھے بھی یہ نام پسند آیا کیونکہ مجھے اپنا نام اس لیے اچھا نہیں لگتا کہ اسکے معنی ’غمزدہ‘ کے ہیں۔
ابو نے بتایا کہ چند دن پہلے بھی کسی نے ڈائری کی پرنٹ لیکر انہیں دکھائی تھی کہ یہ دیکھو سوات کی کسی طالبہ کی کتنی زبردست ڈائری چھپی ہوئی ہے۔ ابو نے کہا کہ میں نے مسکراتےہوئے ڈائری پر نظر ڈالی اور ڈر کے مارے یہ بھی نہ کہہ سکا کہ ’ہاں یہ تو میرے بیٹی کی ہے۔(جاری ہے)

Wednesday, 17 October 2012

Mulala Yosafzai's Diary (Part-1) 
مُلالہ یوسف زئی کی ڈائری (پہلی قسط)
صوبہ سرحد کے شورش زدہ ضلع سوات میں گزشتہ برس اکتوبر میں شروع ہونے والی فوجی کاروائی جاری ہے۔ اگر ایک طرف سکیورٹی فورسز اور مسلح طالبان کی جھڑپوں میں درجنوں عام شہریوں کے ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری طرف مسلح طالبان نے ایک سو تیس سے زائد سکولوں کو تباہ کرنے کی بھی ذمہ داری قبول کرلی ہے جن میں سے زیادہ تر لڑکیوں کے ہیں۔
اب طالبان نے پندرہ جنوری کے بعد لڑکیوں کے سکول جانے پر بھی پابندی لگانے کا اعلان کیا ہے۔ اس صورتحال میں طالبات پر کیا گزر رہی ہے، بی بی سی ارود ڈاٹ کام ساتویں جماعت کی ایک متاثرہ طالبہ کی کہانی ایک ڈائری کی صورت میں شائع کرے گا۔ سکیورٹی کے خدشے کے پیش نظر وہ ’گل مکئی‘ کے فرضی نام سے اپنی ڈائری لکھیں گی۔ اس سلسلے کی پہلی کڑی:
سنیچر، تین جنوری: میں ڈر گئی اور رفتار بڑھا دی
کل پوری رات میں نے ایسا ڈراؤنا خواب دیکھا جس میں فوجی، ہیلی کاپٹر اور طالبان دکھائی دیے۔ سوات میں فوجی آپریشن شروع ہونے کے بعد اس قسم کے خواب بار بار دیکھ رہی ہوں۔ ماں نے ناشتہ دیا اور پھر تیاری کرکے سکول کے لیے روانہ ہوگئی۔ مجھےسکول جاتے وقت بہت خوف محسوس ہو رہا تھا کیونکہ طالبان نے اعلان کیا ہے کہ لڑکیاں سکول نہ جائیں۔
آج اسمبلی میں ہیڈ مسٹرس صاحبہ نے کہا کہ طالبان کے خوف سے کل سے سکول کا یونیفارم ختم کیا جا رہا ہے اور آئندہ سےگھرکے کپڑے پہن کر سکول آئیں۔ انہوں نے ہمیں یہ بھی سمجھایا کہ اگر راستے میں ہمارا سامنا طالبان سے ہو تو کیا کرنا چاہیئے۔
آج ہمارے کلاس میں ستائیس میں سے صرف گیارہ لڑکیاں حاضر تھیں۔ یہ تعداد اس لیے گھٹ گئی ہے کہ لوگ طالبان کے اعلان کے بعد ڈرگئے ہیں۔ میری تین سہیلیاں سکول چھوڑ کر اپنے خاندان والوں کے ساتھ پشاور، لاہور اور راولپنڈی جاچکی ہیں۔
ایک بجکر چالیس منٹ پر سکول کی چھٹی ہوئی۔گھر جاتے ہوئے راستے میں مجھے ایک شخص کی آواز سنائی دی جو کہہ رہا تھا: ’میں آپ کو نہیں چھوڑونگا۔‘ میں ڈرگئی اور اپنی رفتار بڑھادی۔جب تھوڑا آگے گئی تو پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ کسی اور کو فون پر دھمکیاں دے رہا تھا، میں یہ سمجھ بیھٹی کہ وہ شاید مجھے ہی کہہ رہا ہے۔
اتوار، چار جنوری: کل سکول جانا ہے، میرا دل دھڑک رہا ہے
آج چھٹی ہے، اس لیے میں نو بجکر چالیس منٹ پر جاگی لیکن اٹھتے ہی والد صاحب نے یہ بری خبر سنائی کہ آج پھر گرین چوک سے تین لاشیں ملی ہیں۔اس واقعہ کی وجہ سے دوپہر کو میرا دل خراب ہو رہا تھا۔ جب سوات میں فوجی کارروائی شروع نہیں ہوئی تھی اس وقت ہم تمام گھر والے اتوار کو پِکنک کے لیے مرغزار، فضاء گھٹ اور کانجو چلے جاتے تھے۔ اب حالات اتنے خراب ہوگئے ہیں کہ ہم ڈیڑھ سال سے پِکنک پر نہیں جاسکے ہیں۔
ہم رات کو کھانے کے بعد سیر کے لیے باہر بھی جایا کرتے تھے۔اب حالات کی وجہ سے لوگ شام کو ہی گھر لوٹ آتے ہیں۔ میں نے آج گھر کا کام کاج کیا، ہوم ورک کیا اور تھوڑی دیر کے لیے چھوٹے بھائی کے ساتھ کھیلی۔ کل صبح پھر سکول جانا ہے اور میرا دل ابھی سے دھڑک رہا ہے۔
پیر، پانچ جنوری: زرق برق لباس پہن کر نہ آئیں۔۔۔
آج جب سکول جانے کے لیے میں نے یونیفارم پہننے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا تو یاد آیا کہ ہیڈ مسٹرس نے کہا تھا کہ آئندہ گھر کے کپڑے پہن کر سکول آجایا کریں۔ میں نے اپنی پسندیدہ گلابی رنگ کے کپڑے پہن لیے۔ سکول میں ہر لڑکی نے گھر کے کپڑے پہن لیے جس سے سکول گھر جیسا لگ رہا تھا۔
اس دوران میری ایک سہیلی ڈرتی ہوئی میرے پاس آئی اور بار بار قرآن کا واسطہ دیکر پوچھنے لگی کہ ’خدا کے لیے سچ سچ بتاؤ، ہمارے سکول کو طالبان سے خطرہ تو نہیں؟‘ میں سکول خرچ یونیفارم کی جیب میں رکھتی تھی لیکن آج جب بھی میں بھولے سے اپنے جیب میں ہاتھ ڈالنے کی کوشش کرتی تو ہاتھ پھسل جاتا کیونکہ میرےگھر کے کپڑوں میں جیب سرے ہی نہیں۔
آج ہمیں اسمبلی میں پھر کہا گیا کہ آئندہ سے زرق برق لباس پہن کر نہ آئیں کیونکہ اس پر بھی طالبان خفا ہوسکتے ہیں۔
سکول کی چھٹی کے بعد گھر آئی اور کھانا کھانے کے بعد ٹیوشن پڑھا۔ شام کو میں نے ٹیلی ویژن آن کیا تو اس میں بتایا گیا کہ شکردہ سے پندرہ روز کے بعد کرفیو اٹھالیا گیا۔ مجھے بہت خوشی ہوئی کیونکہ ہمارے انگریزی کے استاد کا تعلق اسی علاقے سے ہے اور وہ شاید کل پندرہ دن کے بعد پڑھانے کے لیے سکول آجائیں۔

Facebook Followers